تربیت پذیر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - قابل تعلیم، تربیت کے لائق، اصلاح پذیر، تربیت پانے والا۔ "مگر کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی زندگی صرف عبادت اور آنحضرتۖ کی تربیت پذیری کے لیے وقف کر دی تھی۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ، ٥٩٢:٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'تربیت'کے ساتھ فارسی مصدر 'پزیرفتن' سے مشتق صیغہ امر 'پذیر' بطور لاحقہ فاعلی ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے ١٩٦٨ء میں "اردو دائرہ المعارف اسلامیہ"میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قابل تعلیم، تربیت کے لائق، اصلاح پذیر، تربیت پانے والا۔ "مگر کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی زندگی صرف عبادت اور آنحضرتۖ کی تربیت پذیری کے لیے وقف کر دی تھی۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ، ٥٩٢:٣ )